پروپیگنڈا۔۔۔۔۔
‏حکومت پاکستان نے کلبھوشن اور دوسرے دہشت گردوں کی رہائی کا نیا آرڈیننس جاری کر دیا ہے اب کلبھوشن اور دوسرے دہشت گردوں کو رہا کیا جائے گا۔

جبکہ اصل خبر کچھ اور ہے جس کیلئے تقریباً ایک سال پیچھے جانا پڑے گا۔

پاکستان کی مِلٹری عدالت نے جب کلبھوشن کو سزائے موت سُنا دی تو ‏انڈیا کی طرف سے سخت ردعمل آیا۔ انڈیا کا کہنا تھا کہ ہماری شہری کو ایران سے اغواء کر کے پاکستان لے جایا گیا اور اب اِسے دہشت گرد پیش کیا جا رہا ہے۔

انڈیا کلبھوشن کے کیس کو عالمی عدالت لے گئی اِن مطالبات کے ساتھ کہ …
1۔ پاکستان کی فوجی عدالت کی کلبھوشن کو ‏سُنائی گئی سزا کو ختم کیا جائے۔
2۔ پاکستان کو کلبھوشن کو دی گئی سزائے موت پر عملدرآمد سے رُوکا جائے
3۔ کلبھوشن کو واپس انڈیا بھیج دیا جائے۔

جس کے جواب میں انٹرنیشنل کورٹ نے جولائی 2019 میں اپنے فیصلے میں نہ تو کلبھوش کی سزا ختم کی نہ پاکستان کو سزا پر علمدرآمد رُوکنے ‏کا حُکم دیا صرف ملتوی کرنے کا کہا اُس وقت تک جب تک پاکستان انٹرنیشنل کورٹ کے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت کلبھوشن کیس کی سول عدالتوں سے نظر ثانی کی اپیل پر کاروائی نہ کرے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ویانا کنوینشن کے ممبرز ہیں۔ اِس لئے اسی فیصلے میں انڈیا ‏کو بھی ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت کلبھوشن تک کونصلر رسائی اور پاکستانی سول لاء کے تحت سول کورٹس میں ریویو یعنی نظر ثانی کی اپیل کا حق دیا گیا۔ جس کا مطلب انٹرنیشنل کورٹ نے مِلٹری کورٹس کی سزا بھی برقرار رکھی صرف سول عدالت میں نظر ثانی کا حق دیا۔ نظر ثانی کیس میں ‏عموماً فیصلہ برقرار ہی رہتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ نیا صدارتی آرڈیننس کیوں آیا ؟ اِس کی ضرورت کیوں پڑی ؟

انٹرنیشنل کورٹ کے پہلے حُکم یعنی کونصلر رسائی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے جو ہندوستان بالکل بھی نہیں چاہ رہا ہے کیونکہ ہندوستان کو پتہ ہے کہ پاکستان ساری شرائط پوری کر کے ‏کلبھوشن کو لٹکا دے گا اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔ نہ سیاسی دباؤ اور نہ بین الاقوامی دباؤ کا آپشن رہے گا ہمارے پاس۔

صدارتی آرڈیننس اِس لئے آیا کیونکہ ہماری مِلٹری کورٹس کیلئے جاسوسی کے حوالے سے قانون سازی اِس طرح ہوئی ہے کہ اِنہیں سول کورٹس میں چیلنج یا ریویو نہیں کیا
‏جا سکتا۔ اِس لئے کلبھوشن کے کیس کو انٹرنیشنل عدالت کے فیصلے کی روشنی میں تقریباً 3 یا 6 مہینوں کیلئے صدارتی آرڈیننس پاس کر کے سول عدالت میں لانے کی شرط پوری کی گئی۔ یہ آرڈیننس 6 مہینوں بعد خود بخود ختم ہو جائے گا۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ انڈیا کلبھوشن کے کیس کیلئے

‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کیلئے کوئی وکیل نہیں لے رہا ہے۔ انڈیا کی شرط یہ ہے کہ انڈیا کا وکیل کلبھوشن کا کیس پاکستان کی عدالت میں لڑے گا جبکہ پاکستان کہتا ہے کہ ایسا کوئی قانون نہیں آپ پاکستان کا کوئی وکیل لے لیں پھر بیشک اپنی لیگل ٹیم اُس کی مدد کیلئے بھیج دے لیکن ‏ہندوستانی وکیل پاکستانی عدالت میں کیس نہیں لڑ سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی عدالت میں کیس کی پیروی کیلئے وکیل کے پاس لائسنس کا ہونا ضروری ہے جو ہندوستانی وکیل کے پاس ہونا ممکن نہیں۔

مختصراً یہ کہ انٹرنیشنل کورٹ کے یہ 2 احکامات پاکستان صرف علامتی طور پر پورا کر رہا ہے۔

‏اس کے بعد کلبھوشن کو پھانسی بھی ہو گی۔ انڈیا نہ اقوام متحدہ جا سکے گا اور نہ ہی کسی اور فورم پر آواز اُٹھا سکے گا صرف تماشا دیکھے گا۔ جبکہ پاکستان اگر انٹرنیشنل کورٹ کے احکامات کے بر خلاف پھانسی دیتا ہے تو سیاسی ، سفارتی دباؤ اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو سکتا ‏ہے جس سے ہندوستان اپنے طور پر کلبھوشن کی دہشت گردی کے الزام سے بھی نکل جائے گا۔
تب تک کلبھوشن یادیو کی وجہ سے بھارت زلیل ورسوا ہو گا اور ہو بھی رہا ہے۔
اب لفافوں سے درخواست ہے کہ غلط الزامات اور منفی پراپيگنڈہ بند کر ديں۔

گمنام سپاہی

اپنا تبصرہ بھیجیں