41

استاد کا مقام اور معاشرہ

“” استاد کا مقام اور معاشرہ “”

تحریر :- مظفر علی کاسی
آرگنائزر وطن ٹیچرز ایسوسی ایشن نصیر آباد بلوچستان

استاد کو اچھوت و نالاق ثابت کروانے کیلیۓ اور ان کے خلاف اتنے محاذ کھولے گیۓ هیں که استاد خود پریشان هے که اتنی تذلیل کس کی اور کیوں کی جارهی هے وه اپنی طرف دیکھتا هے اور ان محاذوں کی طرف ……….!
آخر نتیجہ یهی وہی نکلے گا جس کا آپ تذکره کر رهے هیں کہ درسگاہیں نهیں ‘ درس گاہیں هیں تو مدرس نهیں ‘ بچوں کو ان کی نفسیات کے مطابق پڑھایا نهین جاتا ‘.
مجھے بتایا جاۓ بچے کہاں کے هیں ‘ اور استاد کس ولایت کے هیں ‘
دونوں ایک هی معاشرے ‘ ایک هی ولایت اور ایک هی نفسیات کی پیداوار هیں تو ان کی نفسیات میں کونسا تضاد هے جو استاد سمجھنے سمجھانے سے قاصر هے .؟
دوئ
دوم یه که سرکاری ٹیچر نوکری مل جانے کے بعد اپنے علم ‘ مضمون اور پیشے میں مزید ریسرچ نهیں کرتے یا دلچسپی نهیں لیتا .
اول یه که دلچسپی ماحول اور معاشرے کی فیڈبیک سے بڑھتی هے ‘ جس معاشرے میں استاد کو سر راه گالیاں دی جاتی هوں ‘ جس معاشرے میں استاد کی تذلیل کو هر آدمی اپنے فلسفے کا عروج اور عقل قل سمجھتا هو ‘ جس معاشرے میں استاد کو دلت سمجھا جاۓ اور اسٹیٹس کی بھوک مٹا نے کیلیۓ سپاهی’ کلرک و بابو کی آؤبھگت کی جاتی هو ‘ وهاں استاد کی کیا خاک دلچسپی رهے گی ‘ حالانکه سپاهی کلرک وبابو بھی اسی معاشرے کا حصه هیں ان کا اپنا مقام اور ایک اعلی پیشه هوتا هے جوکه استاد هی کا مرعون منت هے .

دوئم ریسرچ ریسرچگاهوں ‘ سهولت کاروں اور تربیت گاهوں میں هوتی هے ‘ ورکشاپ سے هوتی هے
حکومت اور ان کے سهولت کار یه بتائیں که تعلیم و تعلم ‘ مدرس و مدارس ‘ تربیت و ریسرچ کے نام پر کتنا بجٹ کھایا جا رها هے ‘
بعض خودساخته مفکر و فلسفی یه دلیل دیتے هوۓ نهیں تھکتے که استاد کے هوتے هوۓ معاشره کیوں بگاڑ کا شکار هے .؟ اور وه سارا ملبه استاد کی تربیت میں کمی پر ڈال دیتے هیں .
حالانکه استاد اور معاشرے کے درمیان ایک بڑی سرد جنگ شروع هے اور یه اسی جنگ کا شاخسانه هے که معاشره ابھی تک اپنے درست سمت اور ڈگر پر گامزن هے اور جیت ان شأءالله استاد هی کی هوگی .
پرائمری اسکولوں کی حد تک تعلیم وه اهم اور بنیادی تعلیم هے لیکن حکومت اور عوامی حلقوں نے انہیں یکسر نظر انداز کیا هوا هے اور پرائمری تعلیم بچہ ء یتیم کی طرح الله کے سہارے چل رہی ہے ، بیشتر پرائمری اسکولوں میں ایک ٹیچر کم از کم 50 اور زیادہ سے زیادہ 140 طلباء 5 کلاسیں 6 مضامین اور 5 گھنٹے کا وقت هونے کے باوجود 70/60 % رزلٹ دیتا هے ‘ پھر بھی حوصله افزائ نهیں .

کیا استاد میں کوئ ایک خوبی بھی نهیں .?
اگر نهیں تو دیر کس بات کی ” اٹھا اور سمندر میں سب کو پھینک “
پھر بیٹھ انتظار کر اپنی پستی کا ‘ اپنی زوال کا ‘ پھر کہتے بھٹکنا ” تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد .
یه سب اسی رویئے کی وجه سے هے اس کی وجه سے هی حالات اس ڈگر پر آگۓ هیں .
کوئ ایک لفظ تعریفی بیان کرنے سے زبان پر چھالے پڑجاتے هیں جس کو دیکھیں استاد کی غیبت استاد کی برائ بیان کۓ جارهے هیں .
بعض لوگ تو اس غیبت کے کام کی باقائده تنخواه لینے لگے هیں تو استاد کی غیبت سے قوموں کی زوال تو آنی هی هے .
جس کو دیکھیں استاد کی غیبت کی کتاب دلیلوں کی تفسیر بغل میں دباۓ پھرتا هے .
مزید ستم ظریفی حکومت بلوچستان کی دیکھئے کہ ” ” لازمی تعلیمی ایکٹ 2018 ” ” کے نام سے اساتذہ کرام کی آزادی راۓ پر پابندی کا ایکٹ نافذ کرکے ان کی آواز اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔
یہ ہے ہمارے مہذب معاشرے کی ایک بہیانک تصویر اور صوبے کی غیر مقبول ، غیر منتخب جاگیر دارانہ اور ڈکٹیٹر ذہنیت کے حکومت کی اساتذہ دشمن عزائم ۔
کیا سب استاد ایک جیسے هیں .؟؟
اگر درسگائیں هی نهیں اور اگر مدرس نهیں اگر فلسفه و نفسیات نهیں تو
پھرحکومت کی اعداد و شمار کے مطابق سالانه یه لاکھوں طلباء کون پاس کرکے پرائمری سے هائ اسکول اور هائ سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی بھیجتا هے جو سائنسدان بھی فلفسی بھی مفکر بھی مدرس بھی درس و درسگاه بھی هیں . ….!!
Plz don’t Copy this ,
only share please .
Muzafar Ali Muzafar .
muzafar.alikasi@facebook.com
kasi47341@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں